نئی دہلی 13 دسمبر (ایس او نیوز) بدھ کو پارلیمنٹ کی سیکورٹی توڑنے پر وزارت داخلہ نےمعاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے اور پتہ چلا ہے کہ اس تعلق سے 5 ملزمین کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ مزید ایک کی تلاش جاری ہے۔
پارلیمنٹ کی وزیٹرس گیلری میں بیٹھے دو لوگ جس طرح سیکورٹی کا گھیرا توڑ کر جتنی آسانی کے ساتھ لوک سبھا کی کاروائی کے دوران ایوان میں کود پڑے اوربینچوں پر اچھلتے اور بھاگتے نظر آئے، پھر جس طرح کا پیلے رنگ کا دھواں پھیلاکرافرا تفری کا ماحول پیدا کیا اس سے پارلیمنٹ کی سیکوریٹی کو لے کر سوالات اُٹھ کھڑے ہوگئے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ اس سے کسی کو نقصان نہیں ہوا اور دونوں افراد کو اراکین پارلیمنٹ نے پکڑ کر سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کر دیا۔
بتاتے چلیں کہ ایک طرف ایوان زیریں میں ہنگامہ ہو رہا تھا تو دوسری طرف پارلیمنٹ کے احاطہ میں دو دیگر لوگ ’تاناشاہی نہیں چلے گی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے وہاں پر دھواں پھیلا رہے تھے۔ اب اس پورے معاملے کی جانچ کے لیے مرکزی وزارت داخلہ نے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔
اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے کہا کہ ’’لوک سبھا سکریٹری جنرل کے خط پر وزارت داخلہ نے سی آر پی ایف ڈائریکٹر جنرل انیش دیال سنگھ کی صدارت میں ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ اس میں دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران بطور رکن شامل ہوں گے۔‘‘ اس بیان میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ’’کمیٹی اس بات کی جانچ کرے گی کہ سیکورٹی میں سیندھ کس طرح لگی اور سیکورٹی میں ہوئی کمی کی وجہ جاننے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ کمیٹی اس کے علاوہ سیکورٹی کو بہتر کرنے کو لے کر بھی جلد رپورٹ پیش کرے گی۔‘‘
بتایا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں مجموعی طور پر 6 لوگ شامل تھے جن میں سے دو نے لوک سبھا کے اندر ہنگامہ مچایا اور دو پارلیمانی احاطہ میں ہنگامہ کر رہے تھے۔ ان چاروں کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا اور پھر مزید ایک شخص کی گرفتاری عمل میں آئی۔ پولیس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پانچ لوگ پکڑے جا چکے ہیں اور ایک فرار شخص کی تلاش کی جا رہی ہے۔ لوک سبھا میں کودنے والے شخص کی شناخت ساگر شرما اور منورنجن ڈی کی شکل میں ہوئی ہے۔ امول شندے اور نیلم کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سے پکڑا گیا ہے۔ ان کا پانچواں ساتھی للت بھی پارلیمنٹ میں چاروں کے ساتھ آیا تھا، لیکن ہنگامہ ہونے پر وہ بھاگ گیا جو اب بھی فرار ہے۔ ان کا چھٹا ساتھی وکی بھی پولیس کی گرفت میں ہے، لیکن وہ پارلیمنٹ ہاؤس نہیں آیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سبھی ملزمین کافی دن سے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سبھی لوگ سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی جانچ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کرے گی۔ ملزمین کے گھروں پر چھاپہ ماری بھی کی گئی ہے اور ان کے گھر والوں سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔